Movies

ads header

Monday, August 26, 2024

یہ میں کیا لکھنے جار رہا ہوں۔۔۔؟

0




 آجکل میں بہت سوشل میڈیا کا استعمال بہت زیادہ کرنے لگ گیا ہوں۔ اور زیادہ تر تو "ٹک ٹاک" اور مزید "شارٹ فارم کانٹینٹ" جیسا کہ "انسٹاگرام ریلیز"  جس پر ہمیشہ طرح طرح کی باتیں ہی سننے کو ملیں ہیں۔ کوئی اس "شارٹ فارم کانٹینٹ"  کو برا سمجھتا ہے تو کوئی اس سے دولت شہرت کما رہا ہے۔ خیر آج کی اس تحریر کا مقصد اس طرح کے کانٹینٹ کی افادیت بیان کرنا نہیں وہ موضوع کسی اور دن کسی اور تحریر کیلئے بچا لیتے ہیں۔ 

اس تحریر کا مقصد کیا ہے یہ بالکل موضوعی (subjective) یعنی کہ پڑھنے والے کی اپنی عقل اپنے علم، اس کے اپنے طے کردہ صحیح و غلط کے پیمانے پر منحصر ہے۔  بات ہو رہی تھی "شارٹ فارم کانٹینٹ" کی  تو ایسے ہی سوشل میڈیا سکرول کرتے ایک خوشگوار اتفاق ہوا کہ ایک ویڈیو میرے سامنے اچانک نمودار ہوئی۔ غالباً کسی فلم کا سین تھا۔ اس سین میں ایک لڑکا ایک فلسفی کا "پیار کیا ہے" کے موضوع پر فلسفہ شیئر کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ میں اس فلسفی سے اتفاق کرتا ہوں۔ بس وہ جو لائن تیس سیکنڈ کے ایک کلپ میں بولی گئی اور اس نے میرے دل میں گھر کر لیا۔ یقیناً میں بھی کہیں نہ کہیں یہ ہی خیال کرتا تھا بس مجھے اپنے خیالات کے اظہار کا طریقہ نہیںآرہا تھا- 

آپ بھی سوچ رہے ہونگے کہ وہ فلسفی کون ہے اور کیا ہے اس کا فلسفہ، اس کے مطابق پیار کیا ہے۔ صبر کرئیے ہر سوال کا جواب بھی دونگا اور مزید سوال بھی اٹھاؤں گا۔ فی الحال اپنے موضوع پر ہی رہتے ہیں- اس فلسفی کا نام "ایلون ڈی بوٹوں" ہے۔ اور ان صاحب کا مطابق "پیار ہمارے معاشرے کی پیداوار ہے جو صدیوں سے مختلف سیاسی ، سماجی، ثقافتی عوامل سے متاثر ہو کر  تیار ہوئی ہے"  اور کہیں نہ کہیں میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں۔ اب چاہے ہم پیار کی کوئی بھی قسم لےلیں اور اس پر ان صاحب کا فلسفے کا اطلاق کریں تو شائد آپ کو یہ ہی جواب ملے گا۔ آگے آپ کی مرضی کہ آپ کے مطابق پیار کسے کہتے ہیں، یا آپ کس کو پیار کہنا چاہتے ہیں

بس اسی ایک کلپ اور ایک چھوٹی لیکن پر اثر لائن نے ایسا متاثر کیا کہ میں جاننے پر مجبور ہوگیا کہ یہ "ایلون  ڈی بوٹوں" ہے کون۔؟ اللہ کا نام لے کر اپنی "جہدوجہد ہے جہاں" والی خصلت کو لے کر اس فلسفی کے بارے میں کچھ معلومات اکٹھا کرنی شروع کیں۔

میں جوں جوں ان کے فلسفے سے واقف ہوتا گیا توں توں میرے لئے بصیرت اور تجربات کے دروازے کھلتے گئے۔ میرے اندر ایک "فکری کشش" ہے جو مجھے مجبور کرتی ہےکہ میں اپنے آپ کو نئے خیالات سے اجاگر کروں۔ بس اسی چاہت کی شمع کو جلا رکھنے میں اس پروانے نے اس فلسفی کی تقریباً ساری ویڈیوز اور ساری دستاویزی فلمیں دیکھ ڈالیں۔  اس بندہ ناساز نے اپنی قوم کی روایات کو توڑا نہیں اور انہیں برقرار رکھتے ہوئے میں نے بھی اس فلسفی کی کسی تصنیف کو پڑھنے کی کوشش نہیں کی۔ البتہ اس نے اپنی ایک کتاب پر  ایک ڈاکومنٹری بنائی ہے ہاں وہ ضرور دیکھی ہے۔ اور اس تحریر کا موضوع بھی آج وہی ڈاکیومنٹری ہونے والی ہے

یعنی کہ" اضطراب مقام "اس دستاویزی فلم کا  عنوان ہے "Status Anxiety" 

ایک بات جلدی سے بتاتا چلوں کہ اس فلم کو دیکھنے کیلئے زیادہ مشقت کی ضرورت نہیں بلکہ "یوٹیوب" پر مفت میں دیکھ سکتے ہو۔ اور اگر آپ کاخدانخواستہ تعلق قوم کی اس نسل سے ہے جو کتابیں پڑھنے کا ذوق رکھتی ہے تو آپ کےلئے خوشخبری کہ آپ کو بھی مشقت سے بچا لیا ہے اور آپ فلم کی ہم نام کتاب بھی پڑھ سکتے ہیں۔ افسوس کہ یہ نسل بھی ناپید ہونے کے دہانے پر ہے۔

اب باقاعدہ اپنی تحریر کا آغاز کرتا ہوں۔ اور یہ شائد اوپر بھی کئی بار کہہ چکا ہوں گا۔ اگر ایسا ہے تو معاف کرنا، ہاسٹل کا کھانا کھا کھا کر حافظہ ذرا کمزور پڑ رہا ہے۔

اب سب اس سے پہلے سمجھتے ہیں کہ "اضطراب مقام" کا مطلب کیا ہے۔۔۔؟ 

تو اس کو سمجھنے سے پہلے چند لمحوں کےلئے سوچئے کہ آپ کو ابھی اس وقت جس چیز کی ضرورت ہے یا آپ نے اپنی آئندہ زندگی کےلئے جو بڑا مقصد بنایا ہوا ہے۔ وہ کس لیے بنایا ہوا ہے۔ اور سقراط کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے اس سوال کے جواب میں ملنے والے جواب سے سوال پیدا کرو۔ اور تب تک اس عمل کو دہراؤ جب تک لاجواب نہ ہوجاؤ۔ معاملے کو پیچیدگی سے بچانے کےلئے اس عمل کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ مثلآ ، میرا زندگی میں مقصد ہے کہ اپنے لئے عالیشان گھر، عالیشان گاڑی، تزئین و آرائش کا سامان حاصل کروں۔ اب اگرسقراط بابا میرے سامنے ہوتے تو وہ پوچھتے کہ بیٹا یہ سب تمیں کیوں چاہیے۔؟ میں کہتا کہ سکون کےلئے خوشی کےلئے، اپنے تنفیہ نفس کےلئے، اور پھر سقراط بابا کا سوال آتا کہ تمہیں یہ کس نے بتایا کہ خوشی، سکون ان چیزوں میں ہے۔ میں پھر کوئی جواب دیتا، یہاں تک کہ میرے پاس آخر میں شائد یہ ہی جواب بچتا کہ لوگ دیکھیں، لوگوں میں عزت ہو، لوگ میری طرح بننا چاہیں، لوگ میری عقیدت کریں۔ آخر پر ہمارے ہر  مقصد کا جواب تقریباً یہ ہی ہوگا۔ ہاں تھوڑا بہت فرق ہو سکتا ہے لیکن مرکزی خیال یہ ہی ہوگا۔

ہمارے اس جدید معاشرے میں یہ خیال اتنا معمول کا حصہ بن چکا ہے کہ ہمیں معاشرے میں عزت، متعلقیت، پذیرائی، اور معاشرے کا حصہ تب ہی سمجھا جائے گا جب ہم مادہ پرست ہونگے۔ یا زیادہ سے زیادہ اچھی مادی انواع و اقسام میرے پاس ہونگی۔ اور پھر ایک انسان ساری زندگی اسی مقام کو حاصل کرنے کی پر کشش خوشبو کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔  بس اسی دوڑ میں جب وہ کسی ایسے کو دیکھتا ہے کہ یہ میرے سے آگے نکل گیا تو اس میں اضطراب پیدا ہوتا ہے جسے "اضطرابِ مقام" کہا گیا ہے۔  مثلآ اگر دو ملازموں نے ایک دفتر میں ایک ساتھ کام کیا اور چند سالوں بعد ایک ملازم مینجر کو سیٹ پر پہنچ چکا ہے اور ایک ملازم وہیں پر ہے جہاں سے اس نے شروع کیا تھا تو اس میں بھی یہ "اضطرابِ مقام" پیدا ہوگا۔ کہ ہم نے شروعات تو ساتھ ہی کی تھی یہ آگے کیسے نکل گیا۔ ہمارے اندر جلن پیدا ہوگی، ایک بے چینی کی سی کیفیت ہوگی۔ یا تو اس کو گرانا چاہیں گے یا اس مقام پر پہنچنا چاہیں گے۔  یا پھر لاگت بازی میں آکر اگر اگلے کا منہ لال ہے تو اپنا تھپڑ مار کر لال کرنے کی کوشش کریں گے۔  یہ ہے کہ ہم اس کا لائف سٹائل اپنانے کو کوشش کریں گے۔ اگر اس کا بچہ اچھے اسکول میں پڑھتا تو اپنے کو اس سے اچھے میں پڑھائیں گے یا خواہش کریں گے۔  اور یہ ایسے ہی چلتا رہے گا حتیٰ کہ آپ ہر طرح سے مقابلہ جیتنا چاہو گے۔ جو مقابلہ صرف آپ کے ذہن میں ہے۔ حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ اب آپ نے اپنی ضد بازی میں آکر اپنے "تنفیہِ نفس" کی خاطر اپنے بچے کو اپنی اوقات سے مہنگے سکول میں داخل کروا ہی لیا ہے تو اس سکول کی فیسوں کی ٹینشن آپ نے الگ سے پال لی ہے۔ یہ تو ایک چھوٹی سی مثال ہے ایک دفتر کے ملازمین کی

 ہمیں ہماری زندگی میں ایسی ژندہ مثالیں ہمارے آس پاس ہی دیکھنے کو ملتی ہونگی

بس ذرا دھیان دینے ضرورت ہے ساقی

یہ مٹی ایسی درخشاں مثالوں سے ہے بھری ہوئی

اگر کوئی اقبال کا گرویدہ یہ پڑھ رہا ہے تو ان کا شعر  بگاڑنے پر معذرت۔



اسی بارے میں سوچتے ہوئے میں نے جب اپنی زندگی میں اسی اضطراب کی مثالیں ڈھونڈنا چاہیں تو مجھے کوئی زیادہ مشقت نہیں کرنی پڑی۔ میری آج تک کی بسر کردہ زندگی کی ڈھیروں مثالیں میرے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہو گئیں۔ اب ان میں سے انتخاب کرنا تھا ایسی مثالوں کا جن سے عزت بھی بچ جائے اور بات میں وزن بھی آ جائے تو میں ایک مثال اپنے اسکول کے ابتدائی سالوں میں سے دینا چاہوں گا کہ، غالباً پنجم یا ششم جماعت میں بندہ ناچیز  مشغول تھا کہ اپنے سے اعلیٰ کلاس والوں میں سے کسی کے کندھے پر  کندھے پر لٹکائے جانے والا بیگ دیکھ لیا۔ بس اسی دن سے پیٹ میں کہیں نہ کہیں درد شروع ہوگیا کہ اب ایسا بیگ مجھے بھی چاہیے۔ اور نادانستہ طور پر میرے ذہن نے اس کے ساتھ میری اسکول میں عزت اور پذیرائی مشروط کردی۔ میرے پاس اگر بیگ ہوگا تو ہی اسکول میں عزت ہے، اور بھی پتا نہیں کیا اول فول چل رہا تھا ذہن میں۔ جو ذہن میں ہی رہے تو اچھا ہے۔ اب اگر اس ایک چھوٹے سے واقعے کے بارے میں سوچوں تو حیران ہوتا ہوں کہ وہ خیالات نادانستہ طور پر میرے اندر کہاں سے منتقل ہوئے۔ اس یہ چیز یہ مقام کو حاصل کرنے کی جو دوڑ ہے، طلب ہے، ریس ہے یہ ہمارے اندر کہاں سے آتی ہے۔ اسی چیز کو بڑے احسن طریقے  سےاس دستاویزی فلم میں سمجھایا گیا ہے۔ اور چند مشہور ہستیوں کی چند باتوں کو مستعار لے کر اس "اضطرابِ مقام" کو چند الفاظ میں سمیٹنے کو کوشش کی گئی ہے۔ جیسے کہ  مارکس کہتے ہیں کہ "خیالات کی حاکمیت کا خیال بھی حاکم طبقے کو ہی آتا ہے" 

خیالات کی حاکمیت سے کیا مراد ہے کہ ایک خیال معاشرے میں ایسے چھوڑا جائے جیسے بے رنگ، بے خوشبو گیس چھوڑی جاتی۔ جس کا اثر تو نظر آتا لیکن بظاہر اس چیز کا ماخذ نظر نہیں آتا۔ اپنی ہی مثال پر واپس جاؤں تو جیسے میں سوچ رہا تھا کہ یہ نادانستہ طور پر مقابلہ بازی کی طمع یا حرص میرے اندر کہاں سے آگئی۔ تو اس فلم کا راوی اس بات کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے کہ میڈیا اس سب میں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میڈیا ہمارے سامنے ایسی مثالیں رکھتا ہے جن جیسا ہم بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اسی کوشش میں وہ وہ کام بھی کرتے ہیں جو ہم اصل میں نہیں کرنا چاہتے۔ ہم اپنے دکھائے گئے خوابوں کو پورا کرنے کےلئے ڈبل شفٹیں لگاتے ہیں، اوور ٹائم لگاتے ہیں۔  صرف یہ کہ ہم سے سوسائٹی کی لگائی گئی امیدیں پوری ہو سکیں۔ اگر کوئی شخص امیر ہے تو ہم اس سے کیا امید کرتے ہیں کہ وہ بڑی گاڑی، بڑے برانڈ کے کپڑے پہنے،۔ اگر کوئی امیر شخص سائیکل پر ہو تو ہم اسے بطور معاشرتی امیر ہی تسلیم نہیں کرتے۔  پھر اس امیر کے اندر بھی تو "سماجی تصدیق" یعنی " Societal validation " کا کیڑا موجود ہے۔  اسے بھی تو معاشرے سے توثیق کروانی ہے کہ ہاں بھائی میری عزت کرو میں امیر ہوں، میرے پاس گاڑی ہے۔ بڑا گھر ہے۔ یا پھر آج کل کے دور میں کہیں کہ میرے پاس ملین میں فالورز ہیں سوشل میڈیا پر۔ 

کیا ہو اگر کوئی کان نہ دھرے کہ کس کے کتنے فالورز ہیں تو کیا پھر بھی یہ فالورز کی یہ ہی اہمیت ہوتی۔ شائد صورتحال اس کے برعکس ہوتی۔

پھر کہا جاتا ہے کہ اس سارے کھیل کو جاری رکھنے کےلئے عوام کو دو تین اور چورن دیے جاتے ہیں جن میں سر فہرست آتے ہیں، تعلیمی ادارے، میرٹ، اور ٹیلنٹ یا ہنرہیں۔

مثلاً تعلیمی اداروں میں سکھایا جاتا ہے کہ آپ جو چاہو بن سکتے ہو، اگر آپ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کےلئے مناسب کوشش کرو تو۔ اگر سائنسدان بننا ہے تو کوشش کرو، یا پھر عصری شعبوں کی بات کریں تو اگر ایکٹر بننا ہے تو محنت کرو، اور پھر میڈیا پر مثالیں ساتھ ساتھ ایسی دی جاتی ہیں کہ فلاں جو بڑا ایکٹر تھا وہ اتنی مشقت کہ بعد آج جس مقام پر پہنچا ہے آپ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ وہ تو ہوٹل پر لوگوں کےجوٹھے برتن مانجا کرتا تھا۔ لیکن اس نے اپنے اندر کے ایکٹر کو کبھی مرنے نہیں دیا۔  اور اسی سے مماثلت رکھتی ڈھیروں مثالیں آپ کو میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر دکھائی جاتی ہیں۔ جس سے آپ بہاؤ کا رخ بدلنے کو کوشش نہ کریں اور یہ سوچ کر اپنے خوابوں کے پیچھے بھاگتے رہیں کہ میرا جو آئیڈیل ایکٹر، لکھاری، شاعر، خواہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والا کیوں نہ ہو۔ اگر میرا آئیڈیل اتنی مشکلات کے بعد وہاں پہنچا ہے تو تھوڑی مشکل -مجھے بھی برداشت کرنی پڑے گی 

پھر اگلا چورن آتا ہے "میرٹ" کا کہ سب کو میرٹ کی بنیاد پر تولا جائے گا۔  یہ بات نظریہ کہ حد تک ٹھیک ہے لیکن یہ بات کسی مثالی ریاست کی معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر کوئی ایکٹر بننا چاہتا ہے اور اس کے خاندان والوں کا تعلق ہے انڈسٹری میں تو وہ اس کو با آسانی انڈسٹری میں لانچ کروا سکتا ہے۔ اس کے تناظر میں اگر نظر ڈالی جائے اس پر جو ایک متوسط طبقے کا باشندہ ہے جس کا خواب بھی ایکٹر بننا ہے وہ اپنے گھر کی معاشی مدد کےلئے پارٹ ٹائم نوکری بھی کر رہا ہے اور اپنا خواب بھی کہیں سینے میں دبائے بیٹھا ہے۔ وہ ایک دن اچانک اس لڑکے کو ٹیلی ویثرن کی اسکرین پر دیکھتا ہے جو اس کا ہم عمر ہی ہے۔ دیکھنے میں بھی اس کم خوبصورت ہے، ایکٹنگ کے معاملے میں بھی کچھ خاصا نہیں۔ تو اس کے دل پر کیا گزرے گی، وہ اس وقت کیا سوچ رہا ہوگا کہ  میں بھی اسی کی عمر کا ہوں، دیکھنے میں بھی اس سے اچھا ہوں، ایکٹنگ کی باقاعدہ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر رہا ہوں ۔ جہاں مجھے انڈسٹری کا پاوا سمجھے جانے والے اساتذہ پڑھاتے ہیں۔ 

پھر یہ لڑکا کیسے آگے پہنچ گیا اور کیسے میں پیچھے رہ گیا۔ ہزاروں خیال دوڑیں گے اس کے ذہن میں ، عجیب کشمکش کا شکار رہے گا،  اور اسی سوچ میں وہ "اضطرابِ مقام " کا شکار ہو جائے گا۔ 

کیوں کہ  میرٹ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ چاہے دوڑ سب اپنے بل بوتے اور محنت پر ہی رہے ہوتے ہیں لیکن، سب دوڑنے والوں کا سٹارٹنگ پوائنٹ ایک نہیں ہوتا۔ مثلا ایک بندہ فنش لائن سے دوسو میٹر کی دوری سے دوڑ رہا ہے اور دوسرا چار سو میٹر کی دوری سے۔ حالنکہ میرٹ کے نظریہ کے مطابق اپنی طاقت کے بل بوتے پر ہی جیتے گا۔ لیکن اس میرٹ کے طے کردہ معیارات میں ہم بھول جاتے ہیں کے سب کا سٹارٹنگ پوائنٹ ایک جیسا نہیں۔ 


کوئی انسان ہے جو بچپن سے انگلش میڈیم اسکولز سے پڑھا ہے اور ایک بچہ ٹاٹ کے اسکولوں سے پڑھا ہے۔ آپ ان کا امتحان لیتے ہیں انگلش کا اور  کہتے ہو ہیں تو دونوں ایک ہی جماعت کے طالب علم اب جس نے زیادہ محنت کی وہی ہے پاس ہونے کا حقدار۔ حالانکہ میرٹ میں ہم نے اس بچہ کا شروعاتی مقام نظر انداز کر دیا کہ اس نے شروع کہاں سے کیا۔ صرف یہ ہی نہیں میرٹ میں ہم یہ سب نظر انداز کر دیتے ہیں کہ مذکورہ شخص انفرادی طور پر کن خصوصیات کا حامل ہےـ یا پھر مذکورہ شخص کا تعلق کس ثقافت سے ہے، کس طرح کا رہن سہن ہےـ معاشی طور پر کیسا ہےـ انفرادی طور پر اسے کیا مشکلات کا سامنا ہےـ ہم میرٹ میں دیکھتے ہیں تو صرف یہ کہ آیا وہ ہمارے طے کردہ معیار پر پورا اتر رہا ہے کہ نہیں ـ البتہ ایک شخص کی شناخت ہی ختم ہو جاتی ہے۔میرٹ کیسے ہمارے نوجوانوں کے خواب چکنا چور کرتا ہے۔ وطن عزیز میں ایسی مثالوں کے انبار لگے ہوئے ہیں لیکن خاص طور پر ایک ایسی مثال جس کی مثال وطن عزیز میں دوسری کوئی نہیں۔ ذرا اس طرف توجہ مرکوز کروانا چاہوں گا۔

مشہور زمانہ اور کچھ کچھ بدنام زمانہ " سی ایس ایس ایگزام " ۔ اس امتحان میں میرٹ کی  بے ساختگی اتنی واضح نظر آتی ہیں لیکن مجال ہے کوئی اس مسابقتی دوڑ پر سوال اٹھانا چاہے۔  اگر کوئی اکا دکا آواز اٹھتی بھی ہے تو دبا دی جاتی ہے۔ اس امتحان میں میرٹ کی بدسلوکی کی شکل اس طرح ملتی ہے کہ ایک شخص جو کہ انفرادی سوچ رکھنے والا ایک فرد ہے۔ جس کے سماج میں رہنے کے اپنے پیمانے ہیں۔  لیکن اس کا یا اس کے خاندان کا ادب سے، سائنس سے، لکھائی، پڑھائی سے، غرض کہ ہر اس علمی و کتابی شے سے اس کا ناطا نہیں پڑا کے شائد اس کا باپ، بھائی ، چچا کوئی جسے وہ روانہ کتاب پڑھتے دیکھتا اس سے متاثر ہوتا اور اس میں لگن پیدا ہوتی۔ اس کے شعور کی ٹریننگ اسی طرح ہوتی کہ اس کو چیزوں کا بس امتحان گزارنے کےلئے رٹا نہ لگانا پڑتا۔ بلکہ وہ اپنی پڑھی ہوئی چیزوں کا قائل ہوتا۔ وہ کسی نظریے، کسی تھیوری کو لے کر اپنی زندگی گزارتا نا کہ بھیڑ چال کا حصہ بن کے۔ لیکن ہوتا اس کے بالکل الٹ ہے نا تو اس کے پاس کوئی متاثر کن شخصیت ہوتی ہے جس سے اس کے اندر علم کی طلب پیدا ہو۔ بلکہ اس نے بچپن سے اب تک صرف یہ ہی دیکھا کہ صبح اٹھ کے مزدوری پہ جانا اور شام کو گھر لوٹنا۔ اب وہ اپنے خاندان کا اکلوتا بیٹا باپ کی درینہ خواہش پر کسی نہ کسی طریقے ڈگری پوری کرتا ہے۔ اور ساتھ ہی وہ سنتا ہے سی ایس ایس کے امتحان کا اور تیاری شروع ہو جاتی ہے۔ 

اب وہ لڑکا اس سے میرٹ پر مقابلہ کرے گا جس کا باپ بھی کوئی آفیسر رہ چکا ہے۔ جو ریٹائرمنٹ کے بعد صبح صبح لان میں بیٹھ کر اخبار پڑھ رہا ہوتا ہے۔ اس کا بڑا بھائی بھی ڈاکٹر ہے جس نے اپنی تحقیق کی کتابیں شائع کر رکھیں ہیں۔ ماں بھی خاصی ادبی عورت ہیں اور کتابوں سے شوق رکھتی ہیں۔ مزید کہ وہ لڑکا بچپن سے ایک ایسے ماحول سے گزرا اور بڑا ہوا ہے کہ اسے اکثر وہ چیزیں حلوہ لگ رہی ہوتی ہیں۔ جو مزکورہ بالا لڑکے کو ہزاروں دفعہ رٹے کے بعد بھی شاید کچی رہ جائیں۔  اب آپ خود انصاف کرو کہ امتحان میں میرٹ پر آنے کے چانسز کس کے زیادہ ہیں۔ بلاشبہ محنت رنگ لاتی ہے، لیکن اگر بات میرٹ کی ہو رہی ہے تو ایک کم کیوں محنت کرے اور دوسرا زیادہ کیوں۔  کیا یہ انصاف ہو رہا ہے اس لڑکے کے ساتھ جس نے اتنی مشکلات کے بعد یہاں تک پہنچنے کی جسارت کی؟ جہاں دوسرا لڑکا بغیر کسی خاصی محنت کے پہنچ گیا۔

یقیناً میرٹ نے اس پہلے لڑکے کی ساری مشکلات، اس کی ساری زندگی کے حالات، اس کا یہاں پہنچنے کا سفر کہ وہ امتحان دے سکے ، وہ سب نظر انداز کر دیا اور کہا کہ ہمارےطے کردہ معیار پر پورا اترے بس۔

کیا پتا وہ جن حالات سے نپٹ چکا ہے ۔ اس کے اندر وہ خصوصیات پیدا کر دیں ہو جو کہ اس لڑکے میں نہ ہوں جو صرف تجربے کے بعد حاصل ہو سکتی ہیں۔ 


اسی لیے اس ہم عصری معاشرے میں میرے خیال اور اس ڈاکیومنٹری کے راوی "ایلون ڈی بوٹوں" کے مطابق میرٹ بھی ایک آلہ کی طرح استعمال کیا جاتا ہے تاکہ لوگ منظم رہیں، اور  بھیڑ چال کا حصہ بنے رہیں، جس کی ٹریننگ بچپن میں ہی اسکول کی اسمبلی قطاروں کو توڑنے پر سزا کی شکل میں مل جاتی ہے۔  


 بات کہاں سے کہاں نکل آئی ایک فلم کے ایک چھوٹے سے کلپ کے ایک ڈائیلاگ سے اور بات یہاں تک پہنچ گئی۔ اسی بات پر ایک اور فلم کے کر دار کا تکیہ کلام یاد آگیا کہ "گلاں وچوں گل نکلدی اے"  اسی بد نما دھبہ "اضطراب مقام " جو کہ ہماری زندگی کی اکثر پریشانیوں کا سبب ہے۔ اور ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ 

بہت ہی مشہور فلسفی " آڈم سمتھ "  کا کہنا ہے کہ یہ ہی ہماری آپسی مٹھ بھیڑ اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کا لالچ ہی معاشرے کی معاشی بحالی کا باعث بنتا ہے- ان کا کہنا ہے کہ جب کوئی فرد اپنے خوابوں کو پورا کرنے کی لگن میں لگ جاتا ہے تو اس سے وہ معاشرے کی مشترکہ بھلائی کی ایک اکائی بن جاتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ایسا کرنا معاشرے میں بھیڑ چال کو جنم بھی دیتا ہے۔


اس سب کے بعد آخر پر جو ایک چورن بیچا جاتا ہے وہ ہے  " ٹیلنٹ " کا کہ اگر ٹیلنٹ ہے تو آپ اپنی من چاہی چیزیں اور زندگی حاصل کر سکتے ہو ۔ صرف ٹیلنٹ اور محنت کے بل بوتے پر۔  جب کہ اس کتاب کے مصنف اور مذکورہ بالا دستاویزی فلم کے راوی کا کہنا ہے کہ یہ آخری حربہ ہے اشرافیہ کا ادنی طبقہ کو اپنی اقتصادی قوت بنائے رکھنے کا بس چورن ہے۔ 

آخر پر"اضطراب مقام"  کا ذکر کرتے ہویے کہاجاتا ہے کہ یہ بے چینی  صرف ان سے پیدا ہوتی ہے جن سے ہمارا کویی تعلق ہو۔ یا پھر وہ ہمارے طبقے کے لوگ ہوں۔ یہ اضطراب نہ صرف ادنی طبقہ میں بللکہ اشرافیہ میں بھی پایا جاتا ہے۔ہاں وہبات الگ ہے کہ ان کی مقابلہ بازی ذرا اونچی ہوتی ہے۔ اسی لیے تو بڑی بڑی کمپنیاں آرڈرپر مخصوص رنگ کی گاڑیاں بناتیں ہیں۔ جس رنگ کی گاری دنیا میں کسی اور کے پاس نہ ہو۔ یہ اتنا تام جھام کس لیے، صرف اپنے اضطراب کی تسکین کےلیے۔ اپنے آپ کو مہان دکھانے کےلیے

آج کی قسط یہاں ہی روکتے ہیں۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

Author Image
AboutAli Raza

Soratemplates is a blogger resources site is a provider of high quality blogger template with premium looking layout and robust design

No comments:

Post a Comment